جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے سری نگر اور جموں وِنگوں کے لئے نئے ہائی کورٹ کمپلیکس کی تعمیر کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اِس موقعہ پر اُنہوں نے ان اہم عدالتی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی جلد اور بروقت تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔دورانِ میٹنگ وزیر اعلیٰ نے مقرر وقت میں تکمیل اور محکمانہ ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے متعلقہ تمام محکموں اورعمل آوری ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ منصوبوں کو تیزی سے مکمل کیا جائے۔انہوں نے رائیکا (جموں) میں قائم کئے جانے والے جدید اور مربوط عدالتی کمپلیکس کے لئے جلد اِنتظامی منظوری دینے کی بھی ہدایت دِی جو جموں وِنگ کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔یہ منصوبہ نیشنل بلڈنگز کنسٹرکشن کارپوریشن لمیٹڈ (این بی سی سی) کے ذریعے عملایا جا رہا ہے جس کے تحت موجودہ ہائی کورٹ کو جانی پور سے رائیکا میں مخصوص طور پر تعمیر شدہ کیمپس میں منتقل کیا جائے گا۔ یہ نیا کمپلیکس عدلیہ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔نئے کمپلیکس میں جدید طرز کے کورٹ رومز، ججوں کے چیمبرز، اِنتظامی بلاکس، مدعیوں کے لئے سہولیات، پارکنگ کا اِنتظام اور ڈیجیٹل نظام سے آراستہ عدالتی سہولیات شامل ہوں گی جو موجودہ عدالتی معیارات کے مطابق ہیں۔میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی ڈبلیو ڈِی،صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار،صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، کمشنر سیکرٹری قانون اچل سیٹھی، ڈائریکٹر جنرل کوڈز مہیش داس، ڈائریکٹر جنرل بجٹ، سینئر اَفسران اورنیشنل بلڈنگز کنسٹرکشن کارپوریشن لمیٹڈ (این بی سی سی) کے نمائندوں نے شرکت کی۔این بی سی سی حکام نے میٹنگ کو جانکاری دی کہ یہ منصوبہ مختلف مراحل (مرحلہ اوّل، دوم اور سوم) میںعملایا جا رہا ہے تاکہ منظم ترقی اور وسائل کا بہتر اِستعمال یقینی بنایا جا سکے۔ ایک تفصیلی پرزنٹیشن میں سائٹ کا اِنتظام، رقبے کی تقسیم (ائیر میٹرکس)، زوننگ پلان، مرحلہ وار تعمیراتی حکمت عملی، ٹائم لائنز اور درپیش چیلنجوں کو اُجاگر کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے سری نگر میں لور کورٹ کمپلیکس کی اَز سر نو تعمیر کی تجاویز کا بھی جائزہ لیاجس کا مقصد کشمیر میں موجودہ عدالتی بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا ہے۔ ان منصوبوں سے عدالتی سہولیات تک رَسائی، مقدمات کے بہتر انتظام اور مجموعی طور پر قانونی چارہ جوئی کے تجربے کو بہتر بنائیں گے۔اُنہوں نے مضبوط عدالتی اِنفراسٹرکچر کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے حکام کو ہدایت دی کہ وہ ٹائم لائنز، معیار اور شفافیت پر سختی سے عمل در آمد کو یقینی بنائیں۔وزیر اعلیٰ نے بالخصوص منظوریوں، فنڈز کی فراہمی اور زمینی ہم آہنگی میں رُکاوٹوں کی باقاعدہ نگرانی اورحل پر زور دیا۔اُنہوںنے کہا کہ جدید عدالتی اِنفراسٹرکچر مؤثر اِنصاف کی فراہمی اور قانونی نظام میں عوام کے اعتماد کے لئے ضروری ہے اور جموںوکشمیرکے دونوں صوبوں میں اِدارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
7
