جموں//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے زور دیا کہ زراعت اور اس سے متعلقہ شعبوں میں سینٹرز آف ایکسی لینس قائم کرنے کا مقصد کسانوں کو اعلیٰ معیار کے پودوں کا مواد اور بیج فراہم کرنا ہے تا کہ وہ اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں ۔ ان باتوں کا اظہار وزیر اعلیٰ نے تالاب تلو میں پریسجن ویجیٹیبل اینڈ فلوریکلچر فارمنگ میں انٹر پرنیور شپ کے سینٹر آف ایکسی لینس کا افتتاح کرنے کے بعد کیا ۔ یہ سہولیات نابارڈ کے تحت 5.929 کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کی گئی ہیں ۔ گذشتہ سال 4 اگست 2025 کو وزیر اعلیٰ نے خود اس سہولت کی بنیاد رکھی تھی ۔ افتتاح کے بعد وزیر اعلیٰ نے سہولت کا تفصیلی دورہ کیا اور زراعت پروڈکشن ڈیپارٹمنٹ کی تعریف کی کہ انہوں نے ریکارڈ وقت میں اس ہائی ٹیک انفراسٹرکچر کوقائم کیا ۔ اس موقع پروزیر اعلیٰ نے کسانوں کو مخاطب کرتے ہوئے زراعت میں بدلتے موسمی حالات کی وجہ سے بڑھتے چیلنجز اور جدید مداخلتوں کی ضرورت پر بات کی ۔ انہوں نے کہا ’’ آج کی دنیا میں کسان بننا کوئی آسان کام نہیں ہے شائد یہ کبھی بھی آسان نہیں ہوتا لیکن آج جتنا مشکل ہے اس سے پہلے شائد اتنا مشکل نہیں تھا کیونکہ چاہے کسان کسی چیز پر یقین کرے یا نہ کرے وہ موسم پر ضرور یقین رکھتا تھا ۔ لین دنیا کے حالات اتنا بدل گئے ہیں کہ آج موسم پر بھروسہ کرنا حماقت ہو گی ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ موسمی نمونوں کی بے ترتیبی نے کاشتکاری کو تیزی سے غیر متوقع بنا دیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے خطرات کو کم کرنے کیلئے فصلی انشورنس ، یقینی آبپاشی اور بہتر انفراسٹرکچر جیسے اقدامات پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا ’’ اکثر شکائت ہوتی ہے کہ ہم بڑی نہریں تو صاف کرتے ہیں لیکن چھوٹی نہروں پر توجہ نہیں دیتے جو پانی کو ٹیل اینڈ تک پہنچاتی ہیں ۔ اس بار میں نے متعلقہ وزیر اور افسران سے کہا ہے کہ ہمیں نہروں کا آخری حصہ یعنی ٹیل اینڈ صاف کرنا ہوگا تا کہ پانی کسانوں تک پہنچے اور کسان اپنی کاشتکاری ٹھیک سے کر سکیں ‘‘ ۔ وزیر اعلیٰ نے ایسے مراکز کو دیگر اضلاع میں بھی قائم کرنے پر زور دیا ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے ایچ اے ڈی پی سکیم کے تحت مستفیدین کو منظوری کی خطوط بھی سونپے ۔
5
