کشمیر پہنچنے والی پہلی مال بردار ٹرین تعمیراتی صنعت کے لیے خوش خبری لے آئی
سرینگر/ ٹی ای این / : وادی کشمیر کے لیے ایک تاریخی لمحہ اس وقت رقم ہوا جب پہلی بار ایک مال بردار ٹرین اننت ناگ ریلوے اسٹیشن پر پہنچی، جو اپنے ساتھ 26 ہزار بوری امبوجا سیمنٹ لے کر آئی۔ اس اقدام کے نتیجے میں سیمنٹ کی قیمتوں میں فی بوری تقریباً 100 روپے کی کمی متوقع ہے، جو مقامی تعمیراتی صنعت اور عام شہریوں کے لیے بڑی راحت کی خبر ہے۔ذرائع کے مطابق، اب تک وادی میں سیمنٹ اور دیگر تعمیراتی سامان زیادہ تر ٹرکوں کے ذریعے جموں یا بیرونِ ریاست سے لایا جاتا تھا، جس پر نہ صرف زیادہ وقت لگتا تھا بلکہ ٹرانسپورٹ لاگت بھی زیادہ پڑتی تھی۔ اب مال بردار ٹرینوں کے ذریعے براہِ راست سامان لانے سے لاگت میں خاطر خواہ کمی آئے گی اور قیمتیں صارفین کی پہنچ میں رہیں گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیاب آپریشن کشمیر کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ سب سے اہم فائدہ یہ ہوگا کہ تعمیراتی لاگت کم ہونے سے رہائشی اور تجارتی منصوبے سستے ہوں گے، جس سے نہ صرف عام لوگوں کو مکانات بنانے میں آسانی ہوگی بلکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بھی تیزی آئے گی۔اس کے علاوہ، مال بردار ٹرین کا آغاز مقامی تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے نئی راہیں کھولے گا۔ ٹرانسپورٹیشن لاگت میں کمی سے صرف سیمنٹ ہی نہیں بلکہ دیگر تعمیراتی اشیاء جیسے سریا، بجری اور پتھر بھی کم نرخوں پر دستیاب ہو سکیں گے۔ اس سے بڑی تعمیراتی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے ٹھیکیداروں اور مزدور طبقے کو بھی فائدہ ہوگا۔ٹرانسپورٹ لاگت میں کمی کے علاوہ، مال بردار ٹرین کی آمد سے متعلقہ شعبوں میں روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ اننت ناگ اور دیگر ریلوے اسٹیشنز پر لوڈنگ، ان لوڈنگ، گودام سازی اور لاجسٹکس کے دیگر شعبوں میں سینکڑوں افراد کو روزگار ملنے کا امکان ہے۔یہ کامیابی وادی کے ریلوے نیٹ ورک کی افادیت کو اجاگر کرتی ہے، جو اب نہ صرف مسافروں بلکہ سامان کی نقل و حمل کے لیے بھی مؤثر طریقے سے استعمال ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق، آئندہ دنوں میں دیگر ضروری اشیاء جیسے کھاد، اناج، اسٹیل اور ایندھن بھی مال بردار ٹرینوں کے ذریعے لانے کا منصوبہ ہے۔مقامی تعمیراتی انجینئرز اور تاجروں نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک ٹھیکیدار نے کہاکہ یہ قدم ہمارے لیے بہت بڑی راحت ہے۔ اب ہمیں جموں سے سیمنٹ لانے پر اضافی کرایہ ادا نہیں کرنا پڑے گا، اور قیمتیں عام لوگوں کے لیے بھی مناسب ہوں گی۔پہلی مال بردار ٹرین کی کامیاب آمد کشمیر کی تعمیراتی صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ قیمتوں میں کمی، لاجسٹکس کی بہتری، اور روزگار کے مواقع ، یہ سب عوامل مل کر وادی کی معیشت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔