1

امرناتھ یاترا سے قبل سکیورٹی انتظامات کا جامع جائزہ، ایل جی منوج سنہا کی زیر صدارت اہم اجلاس

حساس علاقوں میں ہائی الرٹ، سکیورٹی ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل اور فوری ردعمل پر زور
سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز جموں میں واقع لوک بھون میں ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی، جس میں موجودہ سکیورٹی صورتحال، امن و امان کے قیام اور آئندہ امرناتھ یاترا کے پیش نظر کیے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ امرناتھ یاترا ہر سال لاکھوں عقیدت مندوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے اور اس دوران فول پروف سکیورٹی انتظامات ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق اجلاس میں اعلیٰ پولیس اور سول انتظامیہ کے سینئر افسران نے شرکت کی، جن میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نالین پربھات، انٹیلی جنس و سکیورٹی سے وابستہ دیگر اعلیٰ حکام اور مختلف اضلاع کے نمائندہ افسران شامل تھے۔ اجلاس کے دوران نہ صرف مجموعی سکیورٹی منظرنامے کا جائزہ لیا گیا بلکہ یاترا کے روایتی راستوں، قیام گاہوں، بیس کیمپوں اور دیگر حساس مقامات کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔حکام نے لیفٹیننٹ گورنر کو بتایا کہ امرناتھ یاترا کے دوران سیکورٹی کے کثیر سطحی انتظامات کیے جا رہے ہیں، جن میں روٹ سکیورٹی، فضائی نگرانی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور اضافی نفری کی تعیناتی شامل ہے۔ یاترا کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے فوری ردعمل کے خصوصی نظام کو بھی فعال رکھنے پر زور دیا گیا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اجلاس کے دوران سکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ آپسی تال میل کو مزید مضبوط بنائیں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو مؤثر بناتے ہوئے ہر ممکن خطرے کا بروقت تدارک کریں۔ انہوں نے کہا کہ یاترا کے دوران زائرین کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے حساس علاقوں میں ہائی الرٹ برقرار رکھنے، مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے اور سیکورٹی گرڈ کو مزید فعال بنانے کی بھی ہدایت دی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے متعلقہ محکموں کو یاترا کے دوران بنیادی سہولیات، طبی امداد، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر انتظامی امور کو بھی مؤثر انداز میں انجام دینے کی تاکید کی تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اجلاس میں منشیات کے خلاف جاری مہم کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے لیفٹیننٹ گورنر کو آگاہ کیا کہ خطے میں منشیات کے استعمال کے رجحان کو ختم کرنے کیلئے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں، نیٹ ورکس کی نشاندہی اور عوامی بیداری مہم شامل ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے اس موقع پر واضح کیا کہ منشیات کے خلاف جنگ کو مزید تیز کیا جائے اور اس ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے تمام متعلقہ ایجنسیوں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو بھی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات کے مضر اثرات سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ منشیات کے خلاف مہم کو صرف قانون نافذ کرنے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک سماجی تحریک کی شکل دی جائے تاکہ معاشرے کے ہر طبقے کو اس میں شامل کیا جا سکے۔ حکام نے اس سلسلے میں آگاہی پروگراموں، ورکشاپس اور کمیونٹی آؤٹ ریچ سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔اجلاس کے اختتام پر لیفٹیننٹ گورنر نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پوری سنجیدگی، پیشہ ورانہ مہارت اور باہمی تعاون کے ساتھ انجام دیں تاکہ امرناتھ یاترا کو کامیابی اور پرامن انداز میں مکمل کیا جا سکے، اور ساتھ ہی جموں و کشمیر میں امن، استحکام اور سماجی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں