کیا بنگالیوں پر اعتماد نہیں؟، فورسز کی تعیناتی اور افسران کی تبدیلی پر سوالات// فاروق عبداللہ
سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے مغربی بنگال انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ‘‘کیا بنگالیوں پر اعتماد نہیں کیا جا رہا؟یو این ایس کے مطابق انہوں نے بدھ کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں بڑے پیمانے پر مرکزی پولیس فورسز کی تعیناتی اور بیوروکریسی میں رد و بدل تشویش کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو مضبوط بنانا ہے تو ہر ریاست کے عوام کو اپنے نمائندے آزادانہ طور پر منتخب کرنے کا حق دیا جانا چاہیے، بغیر کسی دباؤ کے۔فاروق عبداللہ نے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف بعض قومی رہنماؤں کی جانب سے استعمال کی گئی زبان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ‘‘غیر پارلیمانی اور ملک کے شایانِ شان نہیں’’ قرار دیا۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا مغربی بنگال کے عوام کو اپنے ہی ملک میں اجنبی سمجھا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سمیت دیگر ریاستوں سے بڑی تعداد میں فورسز کو منتقل کیا گیا اور افسران کا تبادلہ کیا گیا، جس پر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ ‘‘ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہایہ سب کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا بنگالی قابلِ اعتماد نہیں؟ کیا وہ اس ملک کا حصہ نہیں؟’انہوں نے الیکشن کمیشن کے کردار پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا، ‘‘مجھے افسوس ہے کہ الیکشن کمیشن نے اس صورتحال کو جس طرح سنبھالا، وہ قابلِ اطمینان نہیں۔’’ بغیر کسی جماعت کا نام لئے انہوں نے کہا کہ ایسے طریقے درست نہیں اور ان سے گریز کیا جانا چاہیے۔واضح رہے کہ مغربی بنگال میں انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے کی ووٹنگ بدھ کو مکمل ہوئی، جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو متوقع ہے۔علیحدگی پسندی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ آزادی کے بعد سے موجود یہ رجحان اب کافی حد تک کم ہو چکا ہے اور بہت محدود ہو گیا ہے۔ تاہم انہوں نے ملک میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ رجحانات کو زیادہ خطرناک قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آج اصل خطرہ علیحدگی پسندی نہیں بلکہ فرقہ واریت ہے، جہاں سیاسی مفادات کیلئے مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ رجحان نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے ملک کے استحکام کیلئے نقصان دہ ہے۔فاروق عبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی ‘‘اتحاد میں تنوع’’ ہے، جہاں مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے باوجود لوگ ایک قوم کے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ہم اس وقت تک وشو گرو نہیں بن سکتے جب تک ہم متحد نہ ہوں۔ اصل خطرہ ہماری تقسیم میں ہے، نہ کہ ہماری تنوع میں۔انہوں نے آخر میں کہا کہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہی ملک کو مضبوط بناتا ہے، اور یہی جذبہ ہندوستان کو آگے لے جا سکتا ہے۔
1
