12

معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے سرکاری اسکولوں کو ترقی دینے کی ضرورت ۔ عمر عبداللہ

گورنمنٹ اسکول مستقبل میں والدین کی پہلی پسند بن سکتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سرکاری اسکولوں کو ایک ایسے معیار پر پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا جہاں والدین اپنے بچوں کو ان میں داخلہ لینے پر غور کریں گے اور اپنے مستقبل کیلئے بہترین انتخاب سمجھیں گے ۔ ان باتوں کا اظہار وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر میں این ای پی 2020 کے چیلنجوں اور امکانات کے پیش نظر ایک دن کے طویل تعلیمی اسٹیک ہولڈرز سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس کا اہتمام ڈائریکٹوریٹ آف اسکول ایجوکیشن کشمیر نے بال رکشا بھارت ( سیو دی چلڈرن ) کے اشتراک سے شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر ( ایس کے آئی سی سی) میں ایچ سی ایل فاؤنڈیشن کے تعاون سے کیا تھا ۔ ماہر تعلیم ، پرنسپلز ، چیف ایجوکیشن آفیسرز لیکچررز ، ماسٹرز ، اساتذہ اور طلباء کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے دنیا میں کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی مرکز بنتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی یہ منتخب حکومت اقتدار میں آئی تب سے جموں و کشمیرمیں تعلیم اور صحت کے شعبوں پر بنیادی توجہ دی جا رہی ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ہر چیز کو ایک طرف رکھیں۔ اگر ہمارے پاس تعلیم نہیں ہے ، اگر ہم صحت مند نہیں تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سڑکیں بناتے ہیں ، ہم پُل بناتے ہیں ، ہم فیکٹری بناتے ہیں ، بجلی مہیاء کرتے ہیں ، ہم سیاح لاتے ہیں ، ہم کچھ بھی کرتے ہیں ۔ اگر ہمارے پاس ان چیزوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے تعلیم نہیں ہے ، اگر ہم کمزور ہیں تو ہم ان چیزوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے ۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ تعلیم میں کسی بھی معاشرے کو تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم کے شعبے سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس طرح کی لگن کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے تا کہ سرکاری اسکولوں کو ایسی سطح پر لایا جائے جہاں والدین کو یہ محسوس ہو گا کہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں داخلہ لینا ان کے مستقبل کیلئے بہترین فیصلہ ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے نوبل امن انعام یافتہ نیلسن منڈیلا کے ’’ تعلیم سب سے طاقتور ہتھیار ہے جسے آپ دنیا کو تبدیل کرنے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں ‘‘ الفاظ کو دوہرایا اور کہا کہ اس اقتباس میں اس کے بہت معنی ہیں اور تعلیم کے شعبے سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس شعبے میں کچھ حصہ ڈالنے کیلئے اس کو اپنا منتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے تعلیم کے شعبے کے دیگر پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے تعلیمی برادری سے کہا کہ دور دراز علاقوں میں خدمات انجام دینے کو سزا کے بجائے کسی چیز کی شراکت کا موقع سمجھا جانا چاہئیے ۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے یہ بھی کہا کہ دور دراز علاقوں میں زیادہ سے زیادہ ہائیبرڈ سیکھنے کے مراکز قائم کئے جائیں تا کہ ان علاقوں کے طلباء کہیں سے بھی مخصوص اساتذہ سے تعلیم حاصل کر سکیں ۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر تعلیمی برادری سے یہ بھی کہا کہ این ای پی 2020 کے نفاذ کے پچھلے پانچ برسوں میں جو چیلنج سامنے آئے ہیں ان پر تبادلہ خیال کیا جانا چاہئیے اور اس طرح کے پلیٹ فارمز پر غور کیا جانا چاہئیے تا کہ مطلوبہ اصلاحی اقدامات کی ضرورت ہو ۔
وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر موجود شرکاء سے کہا کہ وہ حکومت کے سامنے 10 کے قریب قابل عمل نکات لائیں جو جموں و کشمیر میں تعلیمی شعبے کی ترقی کیلئے روڈ میپ تشکیل دیں گے ۔ اس موقع پر وزیر تعلیم محترمہ سکینہ ایتو نے کہا کہ تعلیم دُنیا کے کسی بھی حصے کی ترقی کا اندازہ کرنے کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس تعلیم کے نظام کے مختلف پہلوؤں میں مختلف بہتریوں کے حصول کیلئے مکالمے کیلئے ایک انوکھا پلیٹ فارم اور جگہ ہے ۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی نے اپنے خطاب میں ہماری روز مرہ کی زندگی میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری سکول ایجوکیشن اور سینئر وائس پرذیڈنٹ گلوبل سی ایس آر ، ایچ سی ایل ٹیکنالوجی اینڈ ڈائریکٹر ایچ سی ایل فاؤنڈیشن نے بھی خطاب کیا ۔ وزیر اعلیٰ نے اس میٹنگ کے موقع پرجی بی ایچ ایس ایس جواہر نگر میں12 باہم منسلک اسکولوں کے ذریعہ ایک ہائیبرڈ لرننگ سینٹر کا بھی ای افتتاح کیا ۔ جس کا مقصد براہ راست انٹر ایکٹو کلاسوں اور ہائیبرڈ سسٹم کو بہتر بنانا ہے ۔ انہوں نے کشمیر ڈویژن کے متعدد اضلاع میں39.1 کروڑ روپے کی مالیت والے 19 تعلیمی انفراسٹرکچر پروجیکٹس کا بھی ای افتتاح کیا۔مسٹر عمر عبداللہ نے اس موقع پر ایس آر او 43 ، آر آر ای ٹی اور سی پی ڈبلیو زمرے کے تحت بھرتی ہونے والے مختلف افراد میں تقرری کے احکامات بھی تقسیم کئے ۔ انہوں نے یو ڈی اے اے این ( بھاشا کے رنگ شکھشا کے سنگ ) کے عنوان سے ایک کتاب بھی لانچ کی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں